Chand Nakalay To mara

چاند نکلے تو میرا جسم مہک اُٹھتا ھے
رُوح میں اُٹھتی ھوئی تازہ محبت کی طرح

تیری خاطر تو کوئی جان بھی لے سکتا ھوں
میں نے چاہا ھے تجھے گاؤں کی عزت کی طرح

کھل رہی ھے میرے دیرینہ مسائل کی گرہ
میرے ماحول میں اُترا ھے وہ برکت کی طرح

اب تیرے ہجر میں کوئی لطف یہیں ھے باقی
اب تجھے یاد بھی کرتے ھیں تو عادت کی طرح

تم میری پہلی محبت تو نہیں ھو لیکن
میں نے چاہا ھے تمہیں پہلی محبت کی طرح

وہ جو آتی ھے تو پھر لوٹ کے جاتی ہی نہیں
تم لپٹ جاؤ کبھی ایسی مصیبت کی طرح

میرے دل میں کوئی معصوم سا بچہ ھے وصی
جو تجھے سوچتا رھتا ھے شرارت کی طرح

One Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *